2025ء کا عید سیل سیزن بدتر اور تباہ کن قرار
لاہور، 3 اپریل 2025ء – پاکستان میں اس سال عید کے خریداری سیزن کو بدترین اور تباہ کن قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ مہنگائی کی شدت نے عوام کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کیا ہے۔ بازاروں میں خریداری کا وہ روایتی جوش و خروش نظر نہیں آیا جو ماضی میں عید کے مواقع پر دیکھا جاتا تھا۔ تاجروں کے مطابق، رواں سال عید کے 70 فیصد سے زائد سامان فروخت ہی نہ ہو سکا، جو کاروباری برادری کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا ہے۔
مہنگائی نے عوام کی عید کی خوشیاں چھین لیں
پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ روزمرہ کی ضروری اشیاء کی قیمتیں پہلے ہی آسمان کو چھو رہی تھیں، اور عید کی خریداری پر مزید دباؤ نے متوسط اور غریب طبقے کی مشکلات میں اضافہ کر دیا۔
ایک شہری نے شکایت کرتے ہوئے کہا، “گزشتہ سال جو کپڑے اور جوتے ہم نے 3000 روپے میں خریدے تھے، اس سال وہی 6000 سے 7000 روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو خوشیاں دینے سے بھی قاصر ہیں۔”
بازاروں میں رش تو نظر آیا، لیکن خریداری کی سکت نہ ہونے کی وجہ سے لوگ صرف قیمتیں پوچھ کر واپس جانے پر مجبور تھے۔ دکانداروں نے بھی اس صورتحال پر مایوسی کا اظہار کیا، کیونکہ مہنگائی کی وجہ سے نہ صرف گاہک کم ہو گئے، بلکہ وہ جو تھوڑے بہت آئے بھی، وہ خریداری کرنے کے بجائے قیمتوں پر افسوس کا اظہار کرتے رہے۔
تاجروں کے لیے سخت ترین سیزن
مارکیٹ ایسوسی ایشنز کے مطابق، اس سال عید کے دوران کپڑے، جوتے، زیورات اور دیگر اشیاء کی فروخت میں تقریباً 70 فیصد کمی دیکھی گئی۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد، فیصل آباد اور دیگر بڑے شہروں کے تاجروں نے بھی عید سیزن کو کاروباری لحاظ سے مایوس کن قرار دیا۔
ایک تاجر نے بتایا، “ہر سال عید کے موقع پر ہم اچھا منافع کماتے تھے، لیکن اس سال کاروبار کی صورتحال انتہائی خراب رہی۔ مہنگائی کی وجہ سے لوگ خریداری کے قابل ہی نہیں رہے۔”
حکومت سے مہنگائی کنٹرول کرنے کا مطالبہ
عوام اور کاروباری برادری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مہنگائی کے خلاف فوری اقدامات کرے تاکہ عام شہریوں کو ریلیف دیا جا سکے۔ اگر قیمتوں پر قابو نہ پایا گیا تو مستقبل میں معیشت کو مزید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
2025ء کی عید نہ صرف عوام کے لیے ایک مشکل آزمائش ثابت ہوئی بلکہ کاروباری طبقے کے لیے بھی کسی صدمے سے کم نہیں رہی۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو اگلے سال کے لیے بھی معاشی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔
